29 مئی 2026 - 16:23
شام: سیلاب کی تباہی جاری ہزاروں افراد بے گھر

دیرالزور اور رقہ میں دریائے فرات کی پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند، زرعی اراضی زیرِ آب، آبی تنصیبات کو شدید خطرات لاحق

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، شام کے صوبوں دیرالزور اور رقہ کے نواحی علاقوں میں دریائے فرات کے پانی کی سطح میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث ہزاروں خاندان بے گھر ہوگئے ہیں جبکہ وسیع زرعی علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق اس اچانک سیلابی صورتحال نے متعدد خدماتی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچایا ہے اور آئندہ دنوں میں مزید سیلاب کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

لبنانی اخبار "الاخبار" کے مطابق ترکیہ کی جانب سے سدِ اتاترک کے اضافی پانی کے دروازے کھولے جانے کے بعد شام میں داخل ہونے والے پانی کی مقدار میں نمایاں اضافہ ہوا، جس سے دریائے فرات کے بہاؤ اور اس پر قائم ڈیموں پر دباؤ بڑھ گیا۔

صورتحال کے پیشِ نظر سدِ فرات کے حکام نے ڈیم پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنے کے لیے مرحلہ وار پانچ اضافی دروازے کھول دیے۔ حکام کے مطابق ڈیم کے ذخیرہ آب کی سطح تقریباً 98 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جس کے باعث حفاظتی اقدامات ناگزیر ہوگئے تھے۔

ادھر "سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس" نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ سیلاب کے اثرات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ "مراط" واٹر اسٹیشن مکمل طور پر زیرِ آب آنے کے بعد بند ہوچکا ہے، جبکہ مشرقی دیرالزور میں واقع "الشنان" واٹر اسٹیشن کو تباہی سے بچانے کے لیے فوری امدادی کارروائیوں کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

اسی طرح علاقے "السوسہ" کے گاؤں "البوبدران" میں واقع "السلام" واٹر اسٹیشن بھی پانی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث بندش کے خطرے سے دوچار ہے۔

علاقہ "الخریطہ" میں مقامی رضاکار محدود وسائل کے باوجود واٹر اسٹیشن کو ڈوبنے سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم پانی کے تیز بہاؤ کے باعث صورتحال پر قابو پانا انتہائی دشوار ہوگیا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha